خالہ ہر سال بغیر دائی کے خود ہی ایک بچہ جنم دیتی اور شور مچا دیتی کہ بچہ مر گیا ہے حالانکہ مجھے معلوم تھا کہ بچہ زندہ ہے اور کچھ دیر بعد خالو اسے دفن کر آتے۔ میں بڑی حیران تھی کہ خالہ ایسا کیوں کرتی ہے۔
آج پھر اچانک خالہ کا پیٹ بڑا ہو گیا تھا۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ اس بار خالہ کا راز جان کر رہوں گی۔
جب انکی ڈلیور کا وقت ہوا تو میں نے اسی ٹائم خالہ کو دودھ میں نشہ ملا کر پلایا اور جلدی سے دائی رشیدہ کو بلا لائی۔
جوں ہی وہ خالہ کو دیکھنے کمرے میں گئی تو کچھ دیر بعد چلاتی ہوئی باہر آئی ۔۔۔



No comments:
Post a Comment